کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 195

مخالف کبھی تو کافر ہوتاہے،کبھی فاسق اور کبھی عاصی ۔اور میں یہ بات بھی ذکر کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی خطأ کو معاف فرمادیاہے،خواہ وہ خطأ مسائلِ خبریہ قولیہ سے متعلق ہو یا مسائلِ عملیہ کے۔(مسائلِ خبریہ کی مثال صفاتِ باری تعالیٰ سے اور مسائلِ عملیہ کی مثال صلاۃ وصیام وغیرہ سے دی جاسکتی ہے)۔اس قسم کے بہت سے مسائل میںسلف صالحین کا آپس میں نزاع وخلاف موجود اور قائم ہے،لیکن کسی نے کسی کو کبھی کافر، فاسق یاعاصی نہیں کہا۔ ‘‘ شیخ الاسلام نے اس کی کچھ مثالیں بھی ذکر فرمائیں،پھر فرمایا: ’’ میں یہ بھی بیان کرتا رہتا ہوں کہ سلفِ صالحین اور ائمہ کرام کے کلام سے بعض مخالف عقیدہ رکھنے والوں کی تکفیر بھی منقول ہے،وہ بھی حق ہے،لیکن ضروری ہے کہ تکفیرِ مطلق اور تکفیرِ معین کے فرق کو سمجھا جائے ۔‘‘ (مزید فرماتے ہیں): ’’ تکفیر کا عمل ایک بڑی وعید شمارہوتاہے(لہذا بڑی احتیاط کی ضرورت ہے)بعض اوقات ایک شخص کا قول بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب پر منتج ہوتا ہے، لیکن ممکن ہے وہ شخص نیا نیا اسلام میں داخل ہویا ممکن ہے کہ وہ کسی دور دراز دیہات کا رہنے والا ہو(کہ اس تک وہ علم پہنچا ہی نہ ہو)اب یہ شخص انکار کے باوجود اس وقت تک کافر قرار نہیں دیاجائے گاجب تک اس پر وہ علم پہنچا کر حجت قائم نہ کرلی جائے۔ پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ایک شخص نے وہ نصوص سنے ہی نہ ہوں،یا سنے ہوںلیکن وہ اسکے نزدیک ثابت نہ ہوںیا کسی دوسرے معارض کی وجہ سے اس نے کوئی تاویل کررکھی ہو،خواہ وہ تاویل غلط ہی کیوں نہ ہو۔ میں ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا ذکر کرتا رہتا ہوں جو صحیح بخاری ومسلم میں مروی ہے،جس میں اُس

  • فونٹ سائز:

    ب ب