کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 202

ہمارا مقصودنہ ہو۔ نیزاس صفتِ عظیمہ جس کا قرآنِ حکیم کی متعدد آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث میں ذکر موجود ہے،کا صحیح معنی بیان کرنے کیلئے ، ہم درج ذیل امور بیان کرتے ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کی اپنی خلق کے ساتھ معیت (یعنی خلق کے ساتھ ہونا) کتاب وسنت اور اجماعِ سلف سے ثابت ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ۝۰ۭ ] ترجمہ:اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا: [اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ۝۱۲۸ۧ ] ترجمہ:یقین مانوکہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں اورنیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون کوفرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا: [ لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى۝۴۶ ] ترجمہ:تم مطلقاً خوف نہ کرو،میں اب تمہارے ساتھ ہوںاور سنتا دیکھتا رہونگا۔ اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق (جبکہ وہ غار میں تھے،)فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب