کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 203

 [اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَــصَرَہُ اللہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْـنَيْنِ اِذْ ہُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا۝۰ۚ ] ترجمہ:اگر تم ان کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی،اس وقت جب کہ اسے کافروں نے (دیس سے )نکال دیاتھا،دومیںسے دوسراجبکہ وہ غار میں تھے،جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [افضل الایمان ان تعلم ان اللہ معک حیثماکنت] ترجمہ:افضل ایمان یہ ہے کہ تمہیں اس حقیقت کا علم ہو کہ تم جہاں بھی ہواللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے۔ اس حدیث کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے العقیدۃ الواسطیۃ کے اندر حسن قرار دیاہے، جبکہ بعض اہلِ علم سے اس کا ضعیف ہونا مذکورہے۔ اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنی معیت کے اثبات کے حوالے سے فرمان پیچھے گزر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ سلف صالحین کا اللہ تعالیٰ کی اپنی خلق کے ساتھ معیت کے اثبات پر اجماع قائم ہے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب