کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 204

 (۲) دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت حق ہے اور اپنی حقیقت پر قائم ہے ،ایسی حقیقت جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے ،جو ہر مخلوق کی تشبیہ سے پاک ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان : [لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ۝۰ۚ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۝۱۱ ] ترجمہ:اس جیسی کوئی چیز نہیں ،اور وہ سننے والا اور دیکھنے والاہے۔ اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: [ہَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِيًّا۝۶۵ۧ ] ترجمہ:کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام اور بھی ہے۔ نیز فرمایا: [وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ۝۴ۧ ] ترجمہ:اور نہ کوئی اس کاہمسر ہے۔ الغرض ،جس طرح اللہ رب العزت کی دیگر تمام صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ کیلئے ایسی حقیقت کے ساتھ ثابت ہیں ،جو اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان ہے،اوروہ صفات، مخلوقات کی صفات کے قطعاً مشابہ نہیں (اسی طرح صفتِ معیت کے حوالے سے ہمارا عقیدہ ہے) حافظ ابن عبد البر فرماتے ہیں:اہل السنۃ کا اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات جو قرآن وسنت

  • فونٹ سائز:

    ب ب