کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 205

 میں وارد ہوئی ہیں کے اثبات پراجماع ثابت ہے،اسی طرح ان پر ایمان لانے،اورانہیں مجاز کے بجائے حقیقت پر محمول کرنے پر بھی اجماع ثابت ہے۔اہل السنۃنہ تو کسی صفت کی تکییف کرتے ہیں، نہ کسی صفت کو حد میں محدود کرتے ہیں۔ ابن عبد البر کے اس قول کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاویٰ لابن القاسم کے الفتویٰ الحمویۃ(۵/۸۷) میں نقل فرمایا ہے۔ شیخ الاسلام الفتویٰ الحمویۃ (۵/۱۰۲) میں فرماتے ہیں: ’’ کوئی شخص کتاب وسنت میں وارد ہونے والی اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارہ میں یہ نہ سمجھے کہ ان میں آپس میں تناقض وتعارض پایاجاتا ہے اور اس کی مثال یہ پیش کرے کہ قرآن وحدیث میں اللہ تعالیٰ کی صفت ’’استواء علی العرش‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مذکور صفتِ معیت کے خلاف ہے:[وَھُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ مَاکُنْتُمْ](تم جہاں بھی ہووہ تمہارے ساتھ ہے) اسی طرح اس حدیث کے بھی خلاف ہے: [اذاقام احدکم الی الصلاۃ فان ﷲ قبل وجھہ] ترجمہ:جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے۔ ان نصوص میں تناقص کا دعویٰ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ ہونا بھی حقیقت ہے اور اس کا عرش پر مستوی ہونا بھی حقیقت ہے ،اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقیقتوں کو اپنے اس فرمان میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب