کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 206

 جمع فرمادیا: [ہُوَالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ۝۰ۭ يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْہَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْہَا۝۰ۭ وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ۝۰ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝۴ ] ترجمہ:وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا،وہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اورجو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے،اورجہاں کہیں تم ہووہ تمہارے ساتھ ہے اور جوتم کررہے ہو اللہ دیکھ رہاہے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے عرش کے اوپرہے،کائنات کی ہرچیز کوجا نتا ہے،اور ہم جہاں بھی ہوںوہ ہمارے ساتھ ہے۔یہی بات حدیث الاوعال میں مذکور ہے: [وﷲ فوق العرش وھو یعلم ما أنتم علیہ] یعنی:اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اور تمہارے ہر معاملے کو جانتا ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ لغتِ عربیہ میں’ ’ لفظ ’’مع ‘‘یعنی (ساتھ ہونا)جب استعمال کیا جائے گا تو لغت میں اس کاظاہری معنی مطلقاً مقارنت ومصاحبت ہی ہوگا،معیت کے معنی میں  چھونا یا دائیں بائیں موجود ہونا ضروی نہیں ہے ۔جب سیاقِ کلام کے پیشِ نظر’’ مع ‘‘کے کسی معنی کو مقید کیاجائے گا تو اسی معنی کی مقارنت مراد ہوگی۔ کہا جاتا ہے:’’مازلنا نسیر والقمر معنا اوالنجم معنا‘‘ ہم چلتے رہے اور چاند ہمارے ساتھ رہا،یافلاں ستارہ ہمارے ساتھ ساتھ رہا۔اسی طرح اپنا سامان اگرچہ آپ نے اپنے سر کے اوپر اٹھارکھا ہو مگر آپ کہتے ہیں: ’’ھذا المتاع معی‘‘ (یہ سامان میرے ساتھ ہے)

  • فونٹ سائز:

    ب ب