کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 21

 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اہلِ بدعت کی تردید کو اعتکاف اورقیام اللیل سے افضل قرار دیا ہے۔ایک اورمقام پر فرماتے ہیں:اللہ کی رضا کیلئے اہلِ بدعت پر رد کرنے والا،مجاہدین فی سبیل اللہ ،وارثینِ انبیاء اورخلفاء رُسل میں سے ہے۔ امام اسد بن موسیٰ نے بھی ردِ اہل بدعت کوجہاد سے افضل قرار دیا ہے۔ اسی قسم کا قول حافظ ابن القیم رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے۔ اہلِ بدعت کے تردید کی اساس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: [من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فھو رد] ترجمہ:جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی وہ مردودہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلفِ صالحین اھل الحدیث ان تمام بدعات کے رد میں پیش پیش رہے۔ جیسے امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کے کتاب الایمان میں اور پھر کتاب التوحید میں قدریہ، مرجئہ،جبریہ،معتزلہ،جہمیہ،رافضہ اورجمیع اہلِ تأویل پر رد کیا۔ مسئلہ اسماء وصفات میں خاص طور سے متقدمین اور متأخرین نے کثرت سے لکھا،اور بہت سی مؤلفاتِ نافعہ تصنیف فرمائیں۔بالخصوص شیخ الاسلام کے مختلف رسائل،جن میں ’’الفتویٰ الحمویۃ ‘‘ ’’العقیدۃ الواسطیۃ‘‘اور ’’الرسالۃ التدمریۃ‘‘ خصوصاً قابلِ ذکرہیں۔ ان کے شاگرد حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے’’اجتماع الجیوش الاسلامیۃعلی غزو المعطلہ الجھمیۃ‘‘ میں اسی موضوع کے حوالے سے گفتگوفرمائی۔ اس کے علاوہ ’’القصیدۃ النونیۃ‘‘  ’’الصواعق المرسلۃ علی الجھمیۃ والمعطلۃ‘‘ ’’مفتاح دار السعادۃ‘‘ اور ’’مدارج السالکین‘‘ میں بھی جابجا یہ موضوع ملتاہے۔ اس کے علاوہ’’ اسماء ﷲ الحسنی‘‘ کے نام سے بھی ان کی تألیف موجود ہے اس کے علاوہ امام ابو الحسن الأشعری کی ’’الابانۃ عن اصول الدیانۃ‘‘ ،امام ابنِ خزیمہ کی’’ کتاب التوحید‘‘ حافظ ابو الشیخ الاصبہانی کی ’’کتاب العظمۃ‘‘ ،امام ابنِ قدامۃ المقدسی کی ’’لمعۃ الاعتقاد‘‘ نیز ’’اثبات صفۃ العلو‘‘ ۔امام لالکائی کی ’’شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ ،امام ذ ھبی کی ’’العلو للعلی الغفار‘‘،حافظ ابنِ ابی العز الحنفی کی ’’شرح العقیدۃ الطحاویۃ ‘‘ ،امام ابو القاسم الاصبہانی کی ’’الحجۃ فی بیان المحجۃ‘‘، امام ابو بکر بن عاصم کی’’السنۃ‘‘ اور امام عثمان بن سعید الدارمی کی ’’الرد علی البشر المریسی‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب