کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 210

 جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کے اندر اپنے دوست سے کہا:’’ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا‘‘ (پریشان نہ ہو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے) تویہاں بھی معیت اپنی حقیقت وظاہر پر قائم ہے،آیت کا سیاق یہ دلالت کررہا ہے کہ یہاں معیت ،اطلاع کے معنی کے ساتھ ساتھ ،نصرت وتائید کے معنی پر بھی مشتمل ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بھی معیت کے معنی میں نصرت وتائید کا مفہوم شامل ہے: [اِنَّ اللہَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَۧ ] اسی طرح اللہ تعالیٰ کا موسیٰ اور ہارونسے فرمانا: [ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى۝۴۶ ] ترجمہ:میںتمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا۔ یہاںبھی معیت کا ظاہری معنی علم واحاطہ کے ساتھ ساتھ نصرت وتائید ہے۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ آگے مزید فرماتے ہیں:’’ معیت کے معنی ومقتضیٰ میں فرق موجود ہے، بعض اوقات سیاقِ کلام کے مطابق معیت کا جو مقتضیٰ ہوتا ہے وہی ا س کا معنی ہوتاہے،لہذا سیاقِ کلام کی مناسبت سے معانی مختلف ہوسکتے ہیں۔ ‘‘ محمد بن الموصلی اپنی کتاب’’ استعجال الصواعق المرسلۃعلی الجھمیۃ والمعطلۃ لابن القیم‘‘کی مثال نمبر۹ اور ص۴۰۹ میں فرماتے ہیں:

  • فونٹ سائز:

    ب ب