کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 219

 عرش پر ان سے جدا ہونے کے باوجود ان کے ساتھ ساتھ ہو؟ (۳) اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ علو اورمعیت کا بحقِ مخلوق جمع ہونا ممکن نہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بحقِ خالق بھی ان کا جمع ہونا ناممکن ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے مشابہ یامماثل نہیں ہے : [لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ۝۰ۚ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۝۱۱ ] ترجمہ:اس جیسی کوئی چیز نہیں ،اور وہ سننے والا اور دیکھنے والاہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ’’العقیدۃ الواسطیۃ ‘‘(ص:۱۱۶)میں فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے جو قرآن وحدیث میں ا پنے بندوں کے ساتھ اپنے قرب اور معیت کا ذکر فرمایا ہے،یہ اس کے علو اور فوقیت کے منافی نہیں ہے،کیونکہ تمام صفات میں اللہ تعالیٰ جیسا کوئی نہیں ،وہ قریب ہونے کے ساتھ ساتھ بلند بھی ہے،اوربلندہونے کے ساتھ ساتھ قریب بھی ہے‘‘ ہماری اس بحث کا خلاصہ یہ ہے : ٭ اللہ تعالیٰ کی معیت مع الخلق قرآن،حدیث اور اجماعِ سلف سے ثابت ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی معیت حق ہے اورا پنی اُ س حقیقت پر قائم ہے جو اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان ہے،اور اللہ تعالیٰ کی معیت ایسی نہیں جیسی ایک مخلوق کی دوسری مخلوق کے ساتھ ہوتی ہے۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی معیت مع الخلق اس امر کی متقاضی ہے کہ وہ ازروئےعلم،قدرت،سمع، بصر، غلبہ،تدبیراوردیگر معانیٔ ربوبیت کے ساتھ اپنی تمام مخلوق کا احاطہ کیئے ہوئے ہے۔اور معیت کا یہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب