کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 33

دودھ پلانے لگتی ہے ۔یہ واقعہ صحیح بخاری(۵۹۹۹)و مسلم کتاب الرقاق میں امیر ا لمؤمنین عمر بن الخطاب کی روایت سے موجود ہے۔ نیز ’’الرحمٰن‘‘نام اس وسیع رحمت کو ضمن میں لیئے ہوئے ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۭ ]  ترجمہ:میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے۔ نیز ملائکہ کی مؤمنین کیلئے قرآن میں مذکور دعا کے اندر بھی اس وسیع رحمت کا ذکر ہے : [رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا] ترجمہ:اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیرر کھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں حسن وخوبی ایک تو اس اعتبار سے ہے کہ اس کا ہر نام اپنی جگہ انتہائی خوبصورت اور پیارا ہے…اور دوسری اس اعتبار سے کہ ایک نام کو دوسرے نام کے ساتھ ملاکر ذکر کرنے میں مزید حسن وکمال حاصل ہوتا ہے۔ اس کی مثال :’’العزیز الحکیم‘‘ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے ان دونوں ناموں کو بہت سی جگہوں پر ذکر کیا ہے ۔جس سے ان دونوں نامو ں میں سے ہر نام میں دوسرے نام کی وجہ سے ایک خصوصی کمال حاصل ہوگیا۔اور وہ اس طرح کہ ’’العزیز‘‘ میں عزۃ یعنی (غلبہ) کا معنی، جبکہ ’’الحکیم‘‘ میں حکم اور حکمت کا معنی پایا جاتا ہے ۔(یہ دونوں وصف’’غلبہ اور حکمت‘‘ اللہ تعالیٰ میں بدرجۂ کمال موجود ہیں) لیکن ان دونوں کو اکٹھا کرنا ایک اور کمال پر دلالت کرتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غالب ہونا ،حکمت کے ساتھ مقرون ہے ،چنانچہ اس کا غالب ہونا کسی ظلم وزیادتی کو متقاضی نہیں ہے ،جیسا کہ انسانوں میں سے کسی کو کہیںکچھ غلبہ حاصل ہوجائے تو وہ اپنے غلبہ اور طاقت کے بل بوتے پر ظلم وجور اور غلط تصرفات جیسے گناہوں پر اتر آتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ’’الحکیم ‘‘ہونا ’’العزیز ‘‘کے ساتھ مقرون ہے ،چنانچہ اس کا حکم وحکمت ،غلبۂ کامل کے ساتھ ہے جو ہر قسم کے ضعف یا ذلت سے پاک ہے ۔جبکہ انسانوں کا حکم یا حکمت ہمیشہ کسی نہ کسی طور ضعف وذلت کا شکار رہتا ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب