کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 35

 ہے جو ’’العلیم ‘‘کا نہیں ،اور ’’العلیم‘‘کا اپنا معنی ہے جو’’ القدیر‘‘ کا نہیں… واضح ہو کہ ہم نے جو یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام علَم ہے اور وصف بھی،تو یہ حقیقت خود قرآن نے بتلادی ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : [وَہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۸] ترجمہ:وہ ذات غفور رحیم ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا: [وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَۃِ۝۰ۭ ] ترجمہ:تیرا رب غفور ہے اور رحمت والا ہے۔ پہلی آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ’’الرحیم ‘‘بھی ہے اور دوسری آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ رحمت والا ہے یعنی صفت ِرحمت سے متصف ہے۔پھر لغت اور عرفِ عام میں یہ بات اجماع کا درجہ رکھتی ہے کہ ’’علیم‘‘اسے ہی کہا جائے گا،جس میں علم کا وصف ہواور’’ سمیع‘‘ اسے ہی کہا جائے گا ،جس میں’’سمع‘‘(سننے) کا وصف ہو۔ اور ’’بصیر‘‘وہی کہلائے گا جس میں بصر (دیکھنے) کی صفت ہو۔اور یہ بات اس قدر واضح اور صریح ہے کہ اسے ثابت کرنے کیلئے کسی دلیل کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔ اس تفصیل سے ان معطلہ کی گمراہی اور ضلالت کھل کر سامنے آگئی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے  ناموں کو،ان سے معانی سلب کرکے مانا۔چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ’’سمیع‘‘ ہے لیکن بلاسمع۔ ’’بصیر‘‘ہے، لیکن بلا بصر۔’’عزیز‘‘ ہے،لیکن بلاعزۃ …وھکذا۔یعنی سمیع ہے ،لیکن سنتا نہیں،بصیر ہے،لیکن دیکھتا نہیں،اور عزیز ہے، لیکن غلبہ حاصل کرنے والانہیں۔ انہوں نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ ان اسماء کے اندر پائے جانے والے معنی یا صفت کا ثبوت تعددِ قدماء کو مستلزم ہے …لیکن یہ علت،علیل یعنی مریض بلکہ میت ہے؛ کیونکہ قرآن وحدیث اورعقل سب کے سب اسے باطل قرار دیتے ہیں…جہاں تک قرآن وحدیث کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے باوجودیکہ وہ ’’الواحدالاحد‘‘ (اکیلا) ہے ،مگر اپنے آپ کو بہت سی صفات کے موصوف ہونے کے طور پر ذکر فرمایا،مثلاً فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب