کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 39

 واضح ہو کہ اس حدیث میں دھر سے مراد اللہ تعالیٰ نہیں ہے۔ تیسرا قاعدہ :اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں جو صفات اور معانی ہیں وہ یا تو متعدی ہوں گے یالازم اگر متعدی ہوں تو ان پر ایمان تین چیزوں کے اثبات سے مکمل ہوگا ۔ (۱) یہ ایمان لانا کہ یہ اسم (نام) اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ۔ (۲) یہ ایمان لانا کہ یہ نام جس صفت کو متضمن ہے وہ صفت بھی اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے (۳) یہ ایمان لانا کہ اس صفت کا حکم اور متقضیٰ بھی ثابت ہے ۔ اس اصل کو سامنے رکھتے ہوئے اہلِ علم نے ایک فقہی مسئلہ استخراج کیا ہے اور وہ یہ کہ وہ ڈاکو جو پکڑے جانے سے قبل توبہ کرلے تو اس سے حدساقط ہوجائے گی ۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے : [اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْہِمْ۝۰ۚ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۴ۧ ] ترجمہ:ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابوپالو تو یقین مانوکہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم وکرم والاہے۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں اپنے دو نام ’’غفور رحیم ‘‘ذکر فرمائے،

  • فونٹ سائز:

    ب ب