کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 43

 ہوں ،اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے {فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ}تھا اور ہمیشہ رہے گا(اس کام کا خوب کرنے والا جس کا ارادہ کرے) اور اسکے اقوال وافعال کبھی ختم نہیں ہوسکتے ۔بدلیل قولہ اللہ تعالیٰ: [قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا۝۱۰۹ ] ترجمہ:کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کیلئے سمندر سیاہی بن جائے تو وہ بھی میرے پروردگار کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا ،گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں۔ وقولہ تعالیٰ:[وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّہٗ مِنْۢ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۲۷ ] ترجمہ:روئے زمین کے (تمام) درختوں کی اگر قلمیں بن جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہواور انکے بعد سات سمندر اور ہوں تا ہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوسکتے،بے شک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے۔ جب یہ بات طے ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کے افعال واقوال ہمیشہ سے ہیں اور رہیں گے تو پھر ان افعال میں سے کسی فعل کا نیا ہونا ،اس کے حق میں نقص کو مستلزم نہیں ہوسکتا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب