کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 44

 (۲) دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے بیان کردہ لازم کا ذکر کرے اور اس لازم کو ممتنع قرار د ے۔ مثلاً: صفاتِ باری تعالیٰ کا منکر اگر اس شخص سے کہ جو صفاتِ باری تعالیٰ کو ثابت کرتا ہے کہے کہ تمہارے اثباتِ صفات سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں مخلوق کے مشابہ ہے، تو صفات کا اثبات کرنے والا اسے یوں جواب دے:کوئی مشابہت لازم نہیں آتی ؛کیونکہ خالق کی صفات اس کی طرف منسوب ہوکرذکر ہوتی ہیں ،مطلقاً ذکر نہیں ہوتیں کہ تیرا پیش کردہ لازم ممکن ہوسکے ،جب اس کی صفات اس کی طرف نسبت کرکے ذکر ہوتی ہیں تو پھر وہ صفات اس کے ساتھ مختص ہیںاور ایسی مختص ہیں جیسی اس ذاتِ بے مثل کے لائق ہیں ۔پھر اے صفات کی نفی کرنے والے تو بھی تو اللہ تعالیٰ کیلئے ذات ثابت کرتا ہے ، اور کہتاہے کہ اس کی ذات مخلوق کی ذات کے مشابہ نہیں ہوسکتی (اور یہ درست ہے) مگر یہ بات صفات کے بارہ میں کیوں نہیں کہہ لیتے؟ بھلاپروردگار کی ذات اور صفات میں کیا فرق ہے؟ مذکورہ دونوں حالتوں میں لازم کا حکم بالکل واضح اور ظاہر ہے (پہلی صورت میں درست اور دوسری صورت میں ممتنع ہے) (۳) تیسری صورت یہ ہے کہ لازم قول کے بارہ میں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہو۔ چنانچہ نہ تو اس کا بصورتِ التزام ذکر ہو نہ بصورتِ منع۔دریں حالت اس لازم کا حکم یہ ہے کہ اسے اس کے قائل کی طرف منسوب نہ کیا جائے ؛کیونکہ جب وہ اس کے سامنے ذکر کرے گا توممکن ہے وہ اس لازم کے ساتھ التزام قائم رکھے اور ممکن ہے ممتنع قرار دے دے …دریں صورت یہ احتمال بھی

  • فونٹ سائز:

    ب ب