کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 45

 ہوسکتا ہے کہ وہ ا پنے قول ہی سے رجوع کرلے ،یوں وہ لازم فاسد قرار پائے گا ،اور لازم کا فساد، ملزوم کے فاسد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ان دونوں احتمالوں کے وارد ہونے کی وجہ سے یہ حکم ممکن نہ رہا کہ قول کا لازم بھی قول ہے۔ اگر کوئی شخص یہ سوال اٹھائے کہ یہ لازم تو اس کے قول کا لازم تھا ،لہذا اس کے قول کی طرح ضروری ہے کہ اس کے قول کا لازم بھی اس کا قول ہو؟ ہم اس کا جواب اس طرح دیں گے کہ یہ سوال مردود ہے ۔کیونکہ انسان ایک بشر ہے اور اس کے کچھ ذاتی وخارجی حالات ہوتے ہیں جو بعض اوقات اس لازم سے ذھول وغفلت کے پیدا ہونے کا سبب بن جاتے ہیں، پھر امکانِ سھو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔بعض اوقات فکر کی بندش اس لازم سے غفلت کا سبب بن سکتی ہے ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی مناظرے کی کسی مشکل صورتِ حال میں لازم کے بارہ میں سوچے سمجھے بغیر بات کہہ گیا ہو، وغیروغیرہ۔ پانچواں قاعدہ :اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء توقیفی ہیں اور ان میں عقل کی کوئی گنجائش نہیں ہے… اس قاعدہ کے پیشِ نظرضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء سے آگاہی واطلاع کیلئے کتاب وسنت پر اکتفاء کیا جائے ،اور اس سلسلہ میں کتاب وسنت سے جو کچھ ثابت ہے صرف اسے ہی قبول کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی وبیشی نہ کی جائے ؛کیونکہ عقلِ انسانی کیلئے ممکن ہی نہیں کہ وہ اس امر کا ادراک کرسکے کہ اللہ تعالیٰ کن ناموں کا مستحق ہے ؟ لہذا نص (کتاب وسنت کی دلیل) پر اکتفاء کرنا ضروری ٹھہرا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب