کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 46

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝۰ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْہُ مَسْــــُٔــوْلًا۝۳۶ ] ترجمہ:جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑکیونکہ کان اور آنکھ اوردل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا: [قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۳۳ ] ترجمہ: آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اورہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیزکو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمہ ایسی بات لگادوجس کو تم جانتے نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایسا نام رکھنا جو اس نے اپنی ذاتِ مبارکہ کیلئے پسند نہیں فرمایا،یا اس کے رکھے ہوئے کسی نام کا انکار کردینا ۔اس کے حق میں بہت بڑا ظلم ہے۔لہذا اس سلسلہ میں ادب کا پہلو اختیار کرنا اور کتاب وسنت کی دلیل پر اقتصار واکتفاء ضروری ہے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب