کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 53

 واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ نام اضافت کے ساتھ بھی وارد ہوئے ہیں ،مثلاً:’’مالک الملک‘‘ ’’ذوالجلال والاکرام‘‘ ساتواں قاعد ہ :اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد الحاد سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں پر ایمان لانے سے متعلق جو واجب اور ضروری امور ہیں ان میں سے کسی امر سے انحراف کرنا،اس الحاد کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے کسی نام کا انکار کردیا جائے یا وہ نام جن صفات واحکام پر دلالت کررہے ہیں ان کا انکار کردیا جائے۔گمراہ فرقہ جہمیہ اس الحاد کا مرتکب تھا، ضروری تویہ تھا کہ ان ناموں پر وجوباً ایمان لایا جاتا ،نیز یہ نام جن احکام اور صفات ِ لائقہ پر مشتمل ہیں ان پر ایمان لایا جاتا ،لیکن اس گمراہ فرقے نے انکار کرکے اس الحاد اور انحراف کا ارتکاب کیا ۔ (۲) الحاد کی دوسری شکل یہ ہے کہ ان ناموں کی مدلول صفاتِ باری تعالیٰ کو مخلوقات کی صفات کے مشابہ قرار دیا جا ئے،حالانکہ یہ تشبہ باطل ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ نصوصِ قرآن وحدیث، اس تشبیہ پر دلالت کریں، بلکہ نصوص تو ہر قسم کی تشبیہ کے باطل ہونے پر دال ہیں ،تو جو یہ تشبیہ کا نظریہ اپنائے گا اس نے اسماءِحسنیٰ میں الحاد وانحراف کا ارتکاب کیا۔ (۳) الحاد کی تیسری شکل یہ ہے کہ اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام رکھے ، جس کااللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کیلئے ذکر نہیں فرمایا،جیسا کہ نصاریٰ نے ذاتِ باری تعالیٰ کو ’’الأب‘‘ یعنی باپ کا نام دیا ۔فلاسفہ نے ’’العلۃ الفاعلۃ‘‘ کا نام دیا۔ یہ سب الحاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نام توقیفی ہیں لہذا

  • فونٹ سائز:

    ب ب