کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 57

کی کچھ صفات ہونگی اب وہ صفات یا تو کمال ہیں یا نقص کے ساتھ ہیں …اللہ تعالیٰ کی صفات کا صفاتِ نقص ہونا باطل ہے ؛کیونکہ(جس ذات کی وہ صفات ہیں) وہ ذاتِ رب کامل ہے جو تمام عبادات کا مستحق ہے ،جبکہ اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ کے معبود ہونے کا ابطال اس دلیل سے کیا کہ تمام کے تمام عجز ونقص کے ساتھ متصف ہیں ۔جیسا کہ فرمایا: [وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَہٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕہِمْ غٰفِلُوْنَ۝۵ ] ترجمہ:اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا ؟جو اللہ تعالیٰ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں بلکہ انکے پکارنے سے محض بے خبر ہوں۔ نیز فرمایا: [وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَـيْـــًٔـا وَّہُمْ يُخْلَقُوْنَ۝۲۰ۭ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ۝۰ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝۰ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۝۲۱ۧ ] ترجمہ:اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدانہیں کرسکتے، بلکہ وہ خود پیدا کیئے ہوئے ہیں۔ مردے ہیں زندہ نہیں،انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ابراھیم علیہ السلام کا قول پیش کیا جو اپنے باپ پر اس طرح حجت قائم فرمارہے ہیں:

  • فونٹ سائز:

    ب ب