کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 58

 [اِذْ قَالَ لِاَبِيْہِ يٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَـيْــــــًٔــا۝۴۲ ] ترجمہ:اے ابا !آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کررہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں ؟نہ آپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ نیز اپنی قوم پر اس طرح حجت قائم فرمارہے ہیں: [قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَـيْــــًٔا وَّلَا يَضُرُّكُمْ۝۶۶ۭ اُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۶۷] ترجمہ:کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہوجو نہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچاسکیں نہ نقصان۔ تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو۔کیا تمہیں اتنی سے بھی عقل نہیں۔ پھر حس اور مشاہدہ سے یہ بات ثابت ہے کہ مخلوق کی بھی کچھ صفات ،صفاتِ کمال ہیں، جو کہ اللہ تعالیٰ کی دَین اور عطا ہے تو کمال عطافرمانے والی ذات خود بالاولیٰ کمال کی مستحق اوراس کے ساتھ متصف ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے صفاتِ کمال ہونے پر فطرت کی دلالت بھی موجود ہے ، اور وہ اس طرح کہ فطرتِ سلیمہ فطری اورجبلی طور پر اللہ تعالیٰ کی محبت ،تعظیم اور عبادت پر قائم ہے… تو پھر

  • فونٹ سائز:

    ب ب