کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 65

[وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللہَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْہُمْ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝۷۱ ] ترجمہ: اور اگروہ تجھ سے خیانت کا خیال کریں گے تو یہ اس سے پہلے خود اللہ کی خیانت کرچکے ہیں آخر اس نے انہیں گرفتار کرادیا ،اور اللہ تعالیٰ علم وحکمت والاہے۔ اس لئے کہ صفتِ خیانت ہمیشہ صفتِ نقص ومذمت ہی رہے گی ؛کیونکہ خیانت سے مراد مقامِ امانت میں دھوکہ کرنا ہے ۔یہ صفتِ مذمت ہے جس کا کسی بھی صورت اللہ تعالیٰ کیلئے اطلاق واستعمال جائز نہیں ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض عامۃ الناس کا یوں کہنا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ خیانت کا معاملہ فرماتا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیانت کرتے ہیں، محض باطل ،قابلِ انکار، اور صریح غلط ہے ۔اس سے رکنا اور روکنا واجب ہے۔ دوسرا قاعدہ صفاتِ باری تعالیٰ کے سلسلہ میں دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا دائرہ ، اللہ تعالیٰ کے اسماء کے دائرے سے وسیع ہے ؛کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام کسی صفت کے ضمن پر مشتمل ہوتا ہے جیسا کہ اسماء کے سلسلہ میں قاعدہ نمبر (۲) میں بیان ہوچکا۔ اسکے علاوہ بھی بہت سی صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ کے افعال سے متعلق ہیں اور اس کے افعال کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اسی طرح اسکے اقوال کی بھی کوئی انتہاء نہیں ہے (لہذا صفات کا باب

  • فونٹ سائز:

    ب ب