کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 66

اسماء کے باب سے کہیں زیادہ وسیع ہے)اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّہٗ مِنْۢ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝۲۷] ترجمہ:روئے زمین کے (تمام ) درختوں کی اگر قلمیں ہوجائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہواور انکے بعد سات سمندر اور ہوں تا ہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوسکتے،بے شک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے۔ اور مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت ’’المجیٔ‘‘ اور ’’الإ تیان‘‘ جو آنے کے معنی میں استعمال ہوتی ہیں۔اسی طرح صفتِ ’’الأخذ ‘‘ و’’الإمساک‘‘و ’’البطش‘‘ جو پکڑنے کے معنی میں استعمال ہوتی ہیں ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات ثابت ہیں اور اس جیسی اور اتنی صفات ہیں کہ انہیں شمار نہیں کیاجاسکتا … یہ صفات قرآن وحدیث میں ملاحظہ ہوں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا۝۲۲ۚ ] ترجمہ:تیرا رب خود آجائے گا۔ اور فرمایا:[ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَہُمُ اللہُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ ] ترجمہ: کیا لوگوں کو اس بات کا انتظارہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب