کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 67

 اور فرمایا:[ فَاَخَذَہُمُ اللہُ بِذُنُوْبِہِمْ۝۰ۭ] ترجمہ: اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں پکڑلیا۔ اور فرمایا:[وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ۝۰ۭ]ترجمہ: وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر گر نہ پڑے۔ اور فرمایا:[اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ۝۱۲ۭ] ترجمہ: یقینا تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ اور فرمایا:[يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۝۰ۡ] ترجمہ:اللہ تعالیٰ کاارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے،سختی کا نہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( وینزل ربنا الی السماء الدنیا) ترجمہ: اور ہمارا رب آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ ہم ان تمام صفات کو ،جس طرح کہ وارد ہوئی ہیں ،اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت کرتے ہیں، لیکن انہیں اللہ تعالیٰ کے نام نہیں بناتے ۔ چنانچہ ان صفات کو سامنے رکھ کے یہ کہنا ناجائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام ’’الجائی‘‘یا ’’الآتی‘‘یا ’’الآخذ‘‘یا ’’الممسک ‘‘یا’’الباطش‘‘یا ’’المرید‘‘یا ’’النازل‘‘ ہیں۔ یہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب