کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 68

 تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کی جاسکتی ہیں ،اور ان تمام افعال کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کی جاسکتی ہے۔ تیسرا قاعدہ صفاتِ باری تعالیٰ کی دو قسمیں ہیں:ثبوتیہ اور سلبیہ صفاتِ ثبوتیہ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بیان فرمادیا ۔یہ تمام صفات ،صفات ِکمال ہیں ،جن میں کسی طرح کا کوئی نقص نہیں ہے جیسے : ’’الحیاۃ ‘‘ ’’العلم‘‘ ’’القدرۃ‘‘ ’’الاستواء علی العرش‘ ‘’’النزول الی السماء ‘‘ (یعنی : آسمان کی طرف نزول فرمانا)’’الوجہ‘‘(یعنی :چہرہ) اور ’’الیدین‘‘ (یعنی: دوہاتھ) وغیرہ۔ ان صفات کو اللہ تعالیٰ کیلئے حقیقۃً ثابت کرنا واجب ہے ،ایسی صورت و کیفیت کے ساتھ جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لائق ہے ،اور اس پر نقلی وعقلی دلیل موجود ہے ۔ نقلی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِہٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ۝۰ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۝۱۳۶ ] ترجمہ: اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ پر،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اسکی کتاب پر جو اس نے

  • فونٹ سائز:

    ب ب