کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 69

 اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، ایمان لاؤ!جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اسکے فرشتوں سے اور اسکی کتابوں سے اور اسکے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جاگرا۔ اس آیت ِکریمہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم ہے ،اور اللہ تعالیٰ پر ایمان ،اس کی تمام صفات پر ایمان لانے کو متضمن ومشتمل ہے ۔نیز کتاب ،جو کہ رسول پر نازل ہوئی،پر ایمان لانا،اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اس کتاب میں بیان ہوئیں۔ اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے ضمن میں ہر اس چیز کو قبول کرنا آئیگا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھیجنے والے کے بارہ میں بتائی،اور وہ اللہ رب العزت کی ذات ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو ان تمام صفات سے متصف ہونے کی خبر دی، اور وہ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہے اور سب سے سچی اور سب سے خوبصورت بات کہنے والا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات کے بارہ میں جو بھی خبر دی ،اس کا بلاتردد اقرار واثبات واجب ہے؛ کیونکہ کسی بھی خبر میں تردد تو اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ خبر ایسے شخص سے صادر ہو جس کا جاہل ہونا یا جھوٹا ہونا ممکن ہو،یا پھر وہ ایسا عاجز ہوکہ اسے اپنے مافی الضمیر کو صحیح طریقے سے بیان کرنے پر قدرت نہ ہو،اور یہ تینوں عیب اللہ تعالیٰ کے حق میں ممتنع ومحال ہیں، لہذا اللہ تعالیٰ کی ہر خبر قبول کرنا واجب ہے ۔ اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے متعلق جو بھی خبر دی اسے بعینہ اسی طرح قبول کرنا واجب ہے ؛کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اپنے پروردگار کو جاننے والے،سب سے

  • فونٹ سائز:

    ب ب