کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 71

 قبیلتھم لایغدرون بذمۃ ولایظلمون الناس حبۃ خردل ترجمہ:ان کا قبیلہ کسی عہد میں غدر نہیں کرتا اور نہ ہی لوگوں پر ایک رائی کے دانے کے برابر ظلم کرتا ہے۔ اس قبیلے سے غدریا ظلم کی نفی اس لیئے کی کہ ان میں اتنی جرأت وہمت ہی نہیں کہ وہ یہ کام کرسکیں تو یہ نفی ان کے حق میں نقص ہی ظاہر کررہی ہے نہ کہ ان کی تعریف۔ ایک اور شاعر نے کہا: لکن قومی وان کانوا ذوی عد د لیسوا من الشر فی شیٔ وان ھانا ترجمہ: لیکن میری قوم اگر چہ وہ تعداد میں اچھی خاصی ہے ،مگر لڑنے میں کچھ بھی نہیں ، خواہ لڑائی چھوٹی کیوں نہ ہو۔(یہاںبھی اس قوم سے لڑائی کی نفی ان کی تعریف پر دلالت نہیں کررہی بلکہ شاعر کا کہنا یہ ہے کہ ان میں لڑنے کی ہمت وطاقت ہی نہیں ہے۔تو گویا یہ نفی ان کے حق میں نقص ہے جو ان کی کمزوری پر دلالت کررہی ہے۔) (بہرحال اللہ تعالیٰ سے کسی صفت کی نفی کا معنی تب ہی مکمل ہوگا جب اس منفی صفت کی ضد بطریقِ کمال اس کیلئے ثابت کی جائے ) اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : [وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ ] ترجمہ: اس ہمیشہ زندہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب