کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 72

 اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ سے صفتِ موت کی نفی ہے لیکن اس طرح کہ اسکی ضدیعنی (حیات) اس ذاتِ وحدہ لاشریک لہ کیلئے ثابت ہے … تو موت کی نفی اس لیئے ہے کہ وہ کمالِ حیات کی صفت سے متصف ہے ۔ ایک اور مثال :اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۝۴۹ۧ ] ترجمہ: تیرا رب کسی پر ظلم وستم نہ کرے گا۔ یہاں تو اللہ تعالیٰ سے صفتِ ظلم کی نفی ہے ،اور یہ نفی اس لیئے ہے کہ وہ ذات،ظلم کی ضد یعنی کمالِ عدل کی صفت سے متصف ہے۔ تیسری مثال : اللہ تعالی کا یہ فرمان: [وَمَا كَانَ اللہُ لِيُعْجِزَہٗ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ ] ترجمہ: اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو ہرادے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ سے صفت ِ عجز کی نفی ہے،اس لیئے کہ وہ ذات عجز کی ضد یعنی کمالِ علم اور کمالِ قدرت کی صفت سے متصف ہے ۔ اس لیئے آیت کے آخر میں فرمایا: [اِنَّہٗ كَانَ عَلِــيْمًا قَدِيْرًا۝۴۴ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب