کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 73

 ترجمہ: وہ بڑے علم والا بڑی قدرت والاہے۔ کیونکہ عجز کا سبب یا تو یہ ہوتا ہے کہ بندہ اسبابِ ایجاد سے ناواقف ہوتا ہے یا اسباب سے تو آگاہ ہوتا ہے قدرتِ ایجاد نہیں پاتا ۔مگر اللہ تعالیٰ تو کمالِ علم اور اور کمالِ قدرت کی صفات سے متصف ہے، لہذا اسے آسمان وزمین کی کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی ۔ چوتھا قاعدہ صفاتِ ثبوتیہ ،صفاتِ مدح وکمال ہیں صفاتِ ثبوتیہ ،صفاتِ مدح وکمال ہیں ۔یہ صفات جس قدر زیادہ ہوں گی اور ان کی دلالت میں جس قدر تنوع ہوگا اس قدر ان صفات کے موصوف کا کمال ظاہر ہوگا ،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارہ میں جن صفات ِثبوتیہ کی خبردی ہے وہ صفات ِسلبیہ سے کہیں زیادہ ہیں، قرآن وحدیث کا علم رکھنے والوں کو یہ بات بخوبی معلوم ہے ۔ صفاتِ ثبوتیہ کا ذکر تو جابجا ملتا ہے ،مگر صفات ِسلبیہ کا ذکر غالباً مندرجہ ذیل احوال میں کیا جاتا ہے (۱) جہاں اللہ تعالیٰ کے عموم ِکمال کا ذکر مقصود ہو ،جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ۝۰ۚ ] ترجمہ:اس جیسی کوئی چیز نہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب