کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 75

 ترجمہ:یقینا ہم نے آسمان اور زمین اور جوکچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں تھکان نے چھواتک نہیں۔ پانچواں قاعدہ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ثبوتیہ کی دوقسمیں ہیں: (۱) صفاتِ ذ ا تیہ (۲) صفات فعلیہ صفاتِ ذاتیہ : وہ صفات ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے متصف ہے ،اور ہمیشہ متصف رہے گا ۔جیسے ’’العلم، القدرۃ، السمع، البصر، العزۃ، الحکمۃ، العلو، العظمۃ ‘‘ان میں سے کچھ صفاتِ خبریہ ہیں ،جیسے ’’الوجہ (چہرہ) الیدین(دوہاتھ) العینین (دوآنکھیں)‘‘ صفاتِ فعلیہ:وہ صفات ہیں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مشیئت وچاہت سے ہے ۔ چاہے وہ کرے اور چاہے نہ کرے۔ مثلاً: ’’عرش پر مستوی ہونایا آسمانِ دنیا پر نزول فرمانا‘‘ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ایسی ہیں جو ذاتی بھی ہوسکتی ہیں اور فعلی بھی،مثلاً: صفتِ کلام : یہ صفت باعتبارِ اصل صفتِ ذاتیہ ہے ؛کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے متکلم ہے ،اور ہمیشہ متکلم رہے گا، لیکن کسی کلام کے کرنے یا نہ کرنے کے اعتبار سے یہ صفتِ فعلیہ ہے ؛کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام فرمانا اس کی مشیئت کے تابع ہے ،جب چاہے ،جوچاہے کلام فرمالے (اس لحاظ سے صفتِ فعلیہ ہوئی)اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : [اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُ۝۸۲ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب