کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 76

 ترجمہ: وہ جب کبھی کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے اتنا فرمادینا (کافی ہے )کہ ہوجا،وہ اسی وقت ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر وہ صفت جس کا تعلق اس کی مشیئت سے ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے ،یہ حکمت کبھی تو ہمیں معلوم ہوتی ہے ،اور کبھی ہم اس کی معرفت و ادراک سے عاجز ہوتے ہیں ،البتہ کامل یقین کی حد تک یہ علم ضرور ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کی مشیئت فرمانا اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کایہ فرمان اسی نکتہ کی طرف اشارہ کررہا ہے : [وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلِــيْمًا حَكِــيْمًا۝۳۰ۤۖ ] ترجمہ: اور تم نہ چاہوگے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے، بیشک اللہ تعالیٰ علم والاباحکمت ہے۔ چھٹا قاعدہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے اثبات کے سلسلہ میں دو انتہائی خطرناک اعتقادی گناہوں سے بچنا ضروری ہے ۔(۱) تمثیل (۲) تکییف تمثیل : سے مراد بندے کا یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے جو صفات ثابت ہیں وہ مخلوقات کی صفات کے مماثل ہیں۔یہ عقیدہ بدلیل نقل وعقل باطل ہے ۔ نقلی دلیل:اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ۝۰ۚ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب