کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 77

ترجمہ:اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ۝۰ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۝۱۷ ] ترجمہ: تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا؟کیا تم بالکل نہیں سوچتے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:[ہَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِيًّا۝۶۵ۧ ] ترجمہ: کیاتیرے علم میں اس کا ہمنام ہم پلہ اور بھی ہے؟ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:[وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ۝۴ۧ ] ترجمہ: اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ عقلی دلیل :عقلی دلیل کئی وجوہ سے ہے۔ پہلی وجہ :یہ کہ بداھۃً وضرورۃً یہ بات معلوم ہے کہ خالق ومخلوق کی ذات میں بڑا فرق اور تباین ہے… اور ذات کا یہ فرق صفات کے فرق کو مسلتزم ہے۔کیونکہ صفت ہمیشہ اپنے موصوف کے لائقِ شان ہوتی ہے ۔صفات کا یہ فرق مختلف الذات مخلوقات میں نمایاں نظر آتا ہے ،چنانچہ ایک اونٹ کی قوت، ایک چیونٹی کی قوت سے مختلف ہے… تو جب مختلف مخلوقات صفات کے لحاظ آپس میں فرق رکھتی ہیں حالانکہ ممکن الوجود اور حادث ہونے میں سب مشترک ہیں تو پھر خالق اور مخلوق کی صفت میں پایاجانے والا فرق کتنا واضح اورقوی ہوگا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب