کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 81

آسکتی تو پھر تکییفِ صفات سے گریز ضروری ہوگیا…لہذا کیفیت بیان کرنے ،یا اس قسم کی کوئی بھی کوشش کرنے سے بچو۔اور اچھی طرح بچو ۔اور جان لو کہ اگر تم نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو ایک ایسے خطرناک صحراء میں داخل ہوجاؤگے جس سے خلاصی اور چھٹکارے کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔اور اگر کبھی کیفیتِ صفات کا کوئی خیال دل میں پیدا ہو تو سمجھ جاؤ کہ شیطان اپنا وار کرنے کی کوشش کررہا ہے ،فوراًاپنے پروردگار کی طرف متوجہ ولاچار ہوجاؤ کہ وہ تمہارا مرکزِ پناہ ہے ،اور اس کے بعد وہی کچھ کرتے جاؤ جو اللہ تعالیٰ حکم دے کہ وہ بہترین طبیب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝۳۶ ] ترجمہ:اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ سے پناہ طلب کرو ۔یقینا وہ بہت ہی سننے والاہے۔ ساتواں قاعدہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات توقیفی ہیں،جن کے اثبات میں عقل کو کوئی دخل حاصل نہیں لہذاہم اللہ تعالیٰ کیلئے صرف ان صفات کو ثابت کریں گے جن کے اثبات پر کتاب وسنت کی دلیل موجود ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب