کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 82

 اللہ تعالیٰ کی صرف وہی صفت بیان کی جائے گی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے لیئے بیان فرمادی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی ،اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے تجاوز جائز نہیں ہوگا ۔(اسماء کے سلسلہ میں قاعدہ نمبر (۵)دیکھئے) واضح ہوکہ اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت کے اثبات کیلئے قرآن وحدیث میں تین صورتیں ہیں۔ (۱)اللہ تعالیٰ کی صفت صراحت کے ساتھ بیان ہو ۔مثلاً:صفتِ’’ العزۃ، الرحمۃ، البطش، الوجہ ،اور الید ین ‘‘وغیرہ (۲)دوسرا طریقہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء مذکور ہوں ،ان اسماء کے ضمن میں اللہ تعالیٰ کی صفت ہوتی ہے۔مثلاً:’’الغفور‘‘ اللہ تعالیٰ کا اسم ہے اور اس کے ضمن میں صفتِ مغفرت ہے ۔ ’’السمیع‘‘ اللہ تعالیٰ کا اسم ہے اور اسکے ضمن میں صفتِ سمع ہے ۔ (اس سلسلہ میں اسماء کا قاعدہ نمبر(۳) دیکھیئے ۔ (۳)تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کو ئی فعل یا وصف مذکور ہو جو اللہ تعالیٰ کی صفت پر دلالت کرتاہو۔مثلاً: اللہ تعالیٰ کا استویٰ علی العرش یا اللہ تعالیٰ کا آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرمانایا اللہ تعالیٰ کا مجرمین سے انتقام لینا۔ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ تمام افعال وصفات بالترتیب درج ذیل نصوص سے ثابت ہورہے ہیں (اور یہ تمام افعال وصفات اللہ تعالیٰ کی صفات کو متضمن ہیں ۔) [اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى۝۵ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب