کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 84

 قواعد فی اد لۃ الأسماء والصفات پہلا قاعدہ وہ ادلہ جن سے اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات ثابت ہوتے ہیں ،صرف دوہیں۔ (۱)کتاب اللہ (۲) سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بغیر (کسی اور دلیل سے) اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات ثابت نہیں ہوسکتے ۔ چنانچہ کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کیلئے جن اسماء وصفات کا اثبات وارد ہے،ان کا اثبات واجب ہے۔ اور کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ سے جس چیز کی نفی وارد ہے ،اس کی نفی واجب ہے، اس طرح کہ اس نفی کی ضد (صفتِ کمال) کو اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت کیا جائے اور قرآن وسنت میں جس صفت کا نہ تو اثبات وارد ہو اور نہ نفی ،اس صفت کے لفظ کے بارہ میں توقف کیا جائے… چنانچہ نہ تو اسے اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت کیا جائے ،اور نہ ہی اس کی اللہ تعالیٰ سے نفی کی جائے،کیونکہ قرآن وسنت میں نہ تو اس کا اثبات وارد ہے نہ نفی۔لیکن اس کے معنی کے حوالے سے تفصیل اختیار کی جائے گی ، چنانچہ اس لفظ کا معنی اگر حق ہے جو اللہ تعالیٰ کے لائقِ شان ہے تو وہ معنی قابلِ قبول ہوگا،اور اگر اس لفظ سے ایسا معنی مراد لیا جائے جو اللہ تعالیٰ کے لائقِ شان نہیں تو اس کا رد کرنا واجب ہے ۔ (۱) اثبات کی مثالیں : مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی وہ تمام صفات جن پر اللہ تعالیٰ کے اسماءِحسنی دلالت کرتے

  • فونٹ سائز:

    ب ب