کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 85

 ہیں،خواہ دلالتِ مطابقت ہو یا تضمن یا التزام… اسی طرح وہ تمام صفات جو اللہ تعالیٰ کے مختلف افعال سے ثابت ہوتی ہیں۔مثلاً:استواء علی العرش ،آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرمانا، اور قیامت کے دن بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کیلئے آنا،وغیرہ۔ واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کی انواع کا احاطہ ممکن نہیں ہے،ان افعال کے افراد کے احاطے کی تو بات ہی کیا؟ [وَيَفْعَلُ اللہُ مَا يَشَاۗءُ۝۲۷ۧ ] ترجمہ:اللہ جوچاہے کرگزرے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ’’الوجہ‘‘ (چہرہ)’’ العینان‘‘(دوآنکھیں)’’الید ین‘‘ (دوہاتھ) بھی مذکور ہیں،اسی طرح کلام فرمانا،مشیئت فرمانا،اور ارادہ فرمانا (بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں) ارادہ خواہ شرعیہ ہو یا کونیہ ،ارادہ کونیہ بمعنی مشیئت ہے اور ارادہ شرعیہ بمعنی محبت ہے۔ اسی طرح رضا ،محبت ،غضب اور کراہت وغیرہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں (چونکہ یہ تمام صفات کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہیں ،لہذا انہیں بلا کسی تاویل اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت کرنا واجب ہے ) (۲) نفی کی مثالیں کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ سے جن صفات کی نفی ثابت ہے ان میں موت،نیند، اونگھ، عجز، تھکاوٹ، ظلم،بندوں کے اعمال سے غفلت، کسی کا اس کے مثل ہونا یا کسی کا اس کے برابر ہونا

  • فونٹ سائز:

    ب ب