کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 86

 وغیرہ ہیں(ان تمام صفات کی اللہ تعالیٰ سے نفی وارد ہے ،لہذا ہم بھی ان کے اللہ تعالیٰ سے منتفی ہونے اور ان کے مقابل صفتِ کمال کے ثابت ہونے پر ایمان لائیں) (۳) وہ صفات جن کا کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کیلئے نہ تو اثبات وارد ہے نہ نفی ، ان میں لفظِ ’’ جہت ‘‘کی مثال دی جاسکتی ہے ،چنانچہ اگر کوئی سوال کرے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کیلئے جہت ثابت کریں؟ ہم جواب دیں گے کہ لفظ ِجہت کا کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کیلئے نہ تو اثبات وارد ہے نہ نفی… لہذا اس لفظ کی بجائے وہ صفت ثابت کریں جو کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے،اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا آسمانوں میں (عرش کے اوپر) ہونا ۔اب جہاں تک جہت کے معنی کا تعلق ہے تو اس لفظ کے تین معنی ہوسکتے ہیں۔ (۱) جہتِ سفل ،یعنی نیچے کی جہت (۲) جہتِ علو۔یعنی اوپر کی جہت ،لیکن اس طرح کہ اس جہت نے اللہ تعالیٰ کو گھیر رکھا ہو۔ (۳) جہتِ علو ۔یعنی اوپر کی جہت اس طرح کہ اس جہت نے اللہ تعالیٰ کو نہ گھیر ا ہو ۔ جہت کاپہلا معنی اللہ تعالیٰ کے حق میں باطل ہے ؛کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے علو کے منافی ہے ،اور اللہ تعالیٰ کا علو کتاب وسنت سے ثابت ہے ۔اس کے علاوہ عقل ،فطرت اور اجماعِ امت بھی اللہ تعالیٰ کے علو کو ثابت کرتے ہیں۔ جہت کا دوسرا معنی بھی اللہ تعالیٰ کے حق میں باطل ہے ؛کیونکہ اللہ تعالیٰ اتنا بڑا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ تیسرامعنی حق ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ’’العلی‘‘ بلند ہے اپنی ساری مخلوقات کے اوپر ہے اور اس

  • فونٹ سائز:

    ب ب