کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 89

 اس کے علاوہ بہت سے نصوص موجود ہیں جنکی دلالت یہ ہے کہ کتاب وسنت میں جو کچھ آگیا ہے اس پر ایمان لانا واجب ہے ۔ واضح ہو کہ قرآن مجید کی ہر وہ نص جو قرآنِ حکیم کے کسی حکم پر ایمان کو واجب قرار دیتی ہے وہ سنتِ رسول کے ہر حکم پر ایمان لانے کے وجوب پر بھی دال ہوتی ہے ؛کیونکہ قرآنِ حکیم نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیا ہے ۔اور قرآن حکیم ہی نے اختلافات وتنازعات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹادینے کا حکم دیا ہے ،اس لوٹانے کا معنی یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ِمبارکہ میں آپکی ذات کی طرف رجوع کیا جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپکی سنت کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اتباعِ رسول سے کفر وانکار کرنے والے شخص کا قرآن پر ایمان کہا ں رہا؟ کیونکہ قرآن ہی اتباعِ رسول کا حکم دیتا ہے !اسی طرح اختلافات وتنازعات کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع نہ کرنے والے شخص کا قرآن پر ایمان کہاں رہا؟کیونکہ قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ اپنے اختلافات کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کرو۔ اسی طرح جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو قبول نہیں کرتا اس کا رسول اللہ پر کیاایمان رہا؟ اور ایمان بالرسول کا بھی قرآن پاک ہی نے حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ] ترجمہ: ہم نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ شریعت کے بہت سے اعتقادی وعملی امور کا بیان صرف سنتِ رسول اللہ میں موجود ہے ،لہذا سنت کا وہ بیان قرآن مجید کا بیان قرار پائے گا (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید ہی کو[تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ] فرمایا ہے)

  • فونٹ سائز:

    ب ب