کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 92

 ترجمہ:(مسلمانو!) کیا تمہاری خواہش ہے کہ یہ لوگ ایماندار بن جائیں ،حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کلام اللہ کو سن کر،عقل والے ہوتے ہوئے ،پھر بھی بدل ڈالتے ہیں۔ نیز فرمایا:[مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا] ترجمہ:بعض یہود،کلمات کو ان کی ٹھیک جگہ سے ہیر پھیر کردیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم نے سنا اورنافرمانی کی ۔ عقلی دلیل: یہ ہے کہ ان نصوص کا متکلم (یعنی اللہ ) اپنی مراد کو دوسروں سے بہتر اور زیادہ جاننے والا ہے اور اس ذات نے بڑی فصیح عربی زبان میں بندو ں کو مخاطب کیا ہے ۔ لہذاان نصوص کو ظاہری معنی پر قبول کرنا واجب ہوگا، بصورتِ دیگر مختلف آراء سامنے آئیں گی اور یہ امت مسلسل تقسیم وتفریق کا شکار ہوتی رہے گی ۔واللہ المستعان تیسر ا قاعدہ نصوصِ صفات کے ظاہر کی دوحیثیتیں ہیں ،ایک حیثیت ہمیں معلوم ہے ،جبکہ دوسری حیثیت مجہول ہے ۔ چنانچہ ایک حیثیت معنی کی ہے اور دوسری کیفیت کی ۔معنی معلوم ہے اور کیفیت مجہول ہے … نصوصِ صفات کے معنی معلوم ہونے پر نقلی وعقلی دلیل موجود ہے ۔ نقلی دلیل :اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

  • فونٹ سائز:

    ب ب