کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 95

 دوسری بات ہم نے یہ کہی تھی کہ ان صفات کی کیفیت مجہول ہے ۔کیفیت کے مجہول ہونے کے حوالے سے ہم نے قواعدِ صفات کے قاعدہ نمبر (۶) میں نقلی وعقلی أدلہ تحریر کردیئے ہیں۔ لہذا قاعدہ نمبر (۶) دیکھ لیا جائے ۔ واضح ہو کہ ہم نے نصوصِ صفات کے معانی کے علم ہونے کو دلائل نقل وعقل سے ثابت کیا ہے، جس سے مفوضہ کے مسلک کا باطل ہونا ثابت ہوگیا… مفوضہ ،صفاتِ باری تعالیٰ کے نصوص کے معانی کے علم کے بارہ میں تفویض کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ نصوصِ صفات کے معانی بھی ہم نہیں جانتے ،بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ مفوضہ کا دعویٰ ہے کہ سلف صالحین کا مذہب بھی یہ ہے، مفوضہ کا یہ قول صراحۃ ًباطل ہے اور سلف ھود:۱صالحین معانی کی تفویض کے عقیدہ سے بری ہیں۔ ان سے تواتر کے ساتھ ایسے اقوال منقول ہیں جو صفات کے معانی کے اثبات پر دال ہیں۔ کبھی وہ معانی اجمالاً ہوتے ہیں تو کبھی تفصیلاً ۔البتہ وہ صفات کی کیفیت کے بارہ میں تفویض کا عقیدہ رکھتے ہیں …یعنی کیفیت کا علم اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ہم صفات کا صرف معنیٰ جانتے ہیں ،کیفیت نہیں جانتے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب ’’ العقل والنقل‘‘ (۱؍۱۱۶) جو منہاج السنۃ کے حاشیہ پر مطبوع ہے، میں فرماتے ہیں: ’’ جہاں تک (نصوصِ صفات کے معانی کی ) تفویض کا تعلق ہے تو یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن میں تدبر کا حکم دیا ہے ،اور اس کے تعقل وفہم کی ترغیب دلائی ہے ۔مزید فرماتے ہیں: (اگر یہ بات مان لیں کہ نصوصِ صفات کے معانی صرف اللہ ہی جانتا ہے ) تو پھر یہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب