کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 96

 کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جو اپنی صفات بیان کی ہیں انبیاء ان کے معانی سے ناواقف تھے ،تو گویا انبیاء کرام لوگوں کے سامنے ایک ایسا کلام پڑھتے رہے جس کا معنی وہ خود بھی نہیں جانتے (والعیاذ باللہ ) … یہ بات تو قرآن پاک اور انبیاء ِکرام دونوں کے حق میں موجبِ جرح وطعن ہوگی؛کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن اتارا ہے اور اسے لوگوں کیلئے بیان اور ہدایت قرار دیاہے ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے مکمل طور پر پہنچادینے پر مامور کیاہے ،نیز انہیں اس بات کا بھی پابند کیا ہے کہ وہ لوگوں کو اس کابیان بھی سکھلادیں پھر تمام لوگوں کو قرآنِ پاک پر تدبر وتعقل کا حکم دیا ہے تو اس سب کے بعد قرآنِ پاک کے سب سے اشرف واعلیٰ حصے یعنی ربِ کائنات کی صفات کے معانی کا علم نہ ہونا انتہائی تعجب خیز ہوگا۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ ان نصوص پر تعقل وتدبر نہ کیا جائے ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو بلاغِ مبین کے تقاضے پورے کیئے اور نہ ہی اس وحیِ مُنَزَّل کے بیان کا پورا حق ادا کیا ۔ (والعیا ذ باللہ) اور اگر یہ حقیقت مان لیں کہ رب تعالیٰ کی صفات کے معانی کا ہمیں علم نہیں تو پھر بدعتی اور ملحد قسم کے لوگوں کیلئے الحاد کا ایک اور دروازہ کھل سکتا ہے ،وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان نصوص کے تعلق سے ہم نے اپنی عقل ورائے سے جو کچھ سمجھ لیا وہی حق ہے اور نصوص میںاس کا مناقض ومعارض بھی کوئی نہیں ،کیونکہ ان نصوص کو مشکل ومتشابہ قرار دیا گیا ہے ،جن کا معنی معلوم نہیں اور جس چیز کا معنی معلوم نہ ہو اس سے استدلال جائزنہیں،پس یہ کلام انبیاء سے ہدایت وبیان کے دروازے کے بند ہونے کا موجب ہوگا، جبکہ معارضہ کرنے والوں کیلئے دروازے کھل جائیں گے ،اور وہ کہیں گے کہ ہدایت وبیان ہمارے راستہ میں ہے نہ کہ انبیاء کے راستہ میں؛کیونکہ ہم جوکچھ کہہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب