کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 97

 رہے ہیں اسے جانتے بھی ہیں اور عقلی دلائل سے واضح بھی کررہے ہیں جبکہ انبیاء تو ان کے معانی سے ہی آگاہ نہیں ،بیان تو دور کی بات ہے۔ اس سے واضح ہو اکہ صفات کے معانی کے تفویض کا قول جسے وہ بزعمِ خویش سنت اور سلفِ صالحین کی اتباع قرار دے رہے ہیں،مبتدعین وملحدین کا سب سے بدترین قول ہے… ‘‘(شیخ الاسلام کا کلام ختم ہوا)اور یہ انتہائی نفیس اور درست قول ہے ،ایک صاحبِ رائے شخصیت کا عمدہ کلام ہے جس پر مزید اضافے کی گنجائش نہیں ہے ،اللہ تعالیٰ ہمارے شیخ پروسیع رحمت فرمادے اور ہمیں ان کے ساتھ جنات النعیم میں جمع فرمادے۔ چوتھا قاعدہ : ظاہری نصوص سے مراد کسی بھی لفظ کا وہ معنی ہے جو اس لفظ کے سامنے آتے ہی فوراً ذہن میں آجائے۔اسے ’’معنیٔ متبادر الی الذہن ‘‘کہاجاتا ہے ،بعض اوقات کسی لفظ کے معنی کا تعین سیاقِ کلام یا اضافت کی مناسبت سے ہوتا ہے ۔ چنانچہ ایک لفظ کا ایک عبارت میں کچھ اور دوسری عبارت میں کچھ معنی ہوتاہے ۔ مثال کے طور پر : پہلی مثال:لفظِ ’’القریۃ ‘‘ سے کبھی تو بستی مراد ہوتی ہے،اور کبھی بستی میں رہنے والے لوگ۔ چنانچہ قولہ تعالیٰ:[وَاِنْ مِّنْ قَرْيَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُہْلِكُوْہَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْہَا عَذَابًا شَدِيْدًا۝۰ۭ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب