کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 98

 ترجمہ: جتنی بھی بستیاں ہیں ہم قیامت کے دن سے پہلے پہلے یاتو انہیں ہلاک کردینے والے ہیں یا سخت تر سزا دینے والے ہیں ۔ میں القریۃ سے مراد لوگ ہیں۔ اور قولہ تعالیٰ :[قَالُوْٓا اِنَّا مُہْلِكُوْٓا اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْيَۃِ۝۰ۚ ] ترجمہ:اس بستی والوں کو ہم ہلاک کردینے والے ہیں۔ میںالقریۃ سے مراد بستی ہے جو لوگوں کا مسکن ہوتی ہے۔ دوسری مثال:اگر آپ یوں کہیں : ’’صنعت ھذا بید ی ‘‘(یہ چیز میں نے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے) تو اس مثال میں جو ید (یعنی ہاتھ) مذکور ہے،وہ اس ید یعنی ہاتھ جیسا نہیں ہوسکتا۔جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مذکور ہے : [ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۝۰ۭ ] ترجمہ:جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیونکہ مثال میں جس ہاتھ کا ذکر ہے وہ مخلوق کی طرف منسوب ہے ،لہذا یہ مخلوق کے لائق ہاتھ مراد ہوگا ،جبکہ آیتِ کریمہ میں خالقِ کائنات کے ہاتھ کا ذکر ہے ،جو خالقِ کائنات کے لائقِ شان ہوگا ۔… کوئی بھی سلیم الفطرت یا صحیح العقل انسان خالق کے ہاتھ کو مخلوق کے ہاتھ جیسا یا مخلوق کے ہاتھ کو خالق کے ہاتھ جیسا قرار نہیں دے سکتا ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب