کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 99

 تیسری مثال: ’’ماعندک الازید‘‘ اور ’’ما زید الاعندک‘‘ یہ دو جملے ہیں ۔ دونوںجملوں کے کلمات ایک سے ہیں۔لیکن ترکیب مختلف ہے اور ترکیب کے مختلف ہونے سے معنی بھی تبدیل ہوگیا۔پہلے جملے کا معنی ہوگا :تمہارے پاس صرف زید ہے۔ دوسرے جملے کا معنی ہوگا :صرف تمہارے پاس زید ہے ۔دونوں جملوں کا معنوی فرق واضح ہے جو صرف اسلوبِ ترکیب کے تغیر سے پیدا ہوا ،ورنہ کلمات تو دونوں جملوں کے ایک ہی ہیں۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی تو پھر صفاتِ باری تعالیٰ کے نصوص کے حوالے سے یہ بات نوٹ کرلیجئے کہ ان کے ظاہر سے مراد معنیٔ متبادر الی الذہن ہوگا ۔اس معنیٔ متبادر الی الذہن کے حوالے سے لوگ تین اقسام میں بٹے ہیں ۔ القسم الاول : پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنہوںنے ظاہرِ نصوص سے جو معنیٔ متبادر الی الذہن بنتا ہے اور ذاتِ باری تعالیٰ کے لائقِ شان ہے اس کو حق قرار دیا اور اس کی اس دلالت کو ثابت وبرقرار رکھا ۔ یہ طبقہ سلفِ صالحین کا ہے جو اس خالص عقیدے پر مجتمع ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام قائم تھے ،یہ وہ لوگ ہیں جو اہل السنۃ والجماعۃ کے لقب کے حقیقی مصداق ہیں ، ان کے علاوہ اس عظیم الشان لقب کا کوئی دوسرا مستحق نہیں ہوسکتا۔اس پاکیزہ عقیدے پر سلفِ صالحین کا اجماع ثابت ہے،چنانچہ حافظ ابنِ عبد البر فرماتے ہیں : ’’ قرآن وسنت میں اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات وارد ہیں ان کے اقرار پر ،ان کے ساتھ ایمان لانے پر اور انہیں ان کے مجازی معنیٰ کے بجائے حقیقی معنی پر محمول کرنے پر اہل السنۃ کا اجماع

  • فونٹ سائز:

    ب ب