کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 16
سند اور دیگر ادیان : امت مصطفوی کے علاوہ جتنی امتیں ہیں وہ محسنین کی کوئی سند پیش نہیں کرسکتے ،سند پیش کرنا تو کجا ،ان کتابوں کی زبانیں بھی نہیں رہیں ،جن میں ان کے اقوال موجود تھے۔ان کتابوں کے تراجم مختلف اسلوبوں میں موجود ہیں۔ لیکن وہ کتابیں اصل زبانوں میں آج موجود نہیں ہے ۔ بلکہ حیرانی اور تعجب کی بات ہے کہ یورپ میں ایک مسئلہ چل نکلا ہےکہ عیسیٰ علیہ السلام کا وجود بھی حقیقی تھا یا صرف کردار ہے؟؟کیونکہ بہت سی باتیں عمل و کردار کے اعتبار سے مشہور ہوجاتی ہیں لیکن ان کا وجود نہیں ہوتا۔اس لئے یورپ میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آرہا ہے۔ وہاں کے محققین اور ناقدین نے آزادی کی فکر کو آزاد کیا، لیکن اس آزادی کی فکر میں اتنے آزاد ہوئےکہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی مشکوک بنادیاکہ وہ واقعتاً اللہ کے نبی تھے ،یا صرف قصے کہانیاں ہیں؟؟ بہرحال یہ صرف امت محمدیہ کاخاصہ ہے کہ صرف قرآن مجید ہی نہیں ،حدیث بھی ،لغت بھی حتی کہ جرح والتعدیل کے اقوال بھی اور یہاں تک کہ حکایات و قصص بھی۔تاریخ ،تفسیر اور حدیث ہی نہیں بلکہ قصے اور کہانیوں کو بھی بغیر سند کے بیان نہیں کیا۔ اس موضوع پر حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ اور خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے کچھ عجیب و غریب کتابیں لکھیں،کتاب البخلاء،کتاب التطفیل، ان کتابوں میں جو قصے ہیں، وہ بھی بغیر سند کے نہیں ہیں۔محدثین نے سند کا صور ایسے مضبوط طریقے پر ڈالا اور پھونکا ہے، کہ کوئی حکایت بیان کرنے والا بھی اپنی حکایت بغیر سند کے بیان نہیں کرتا۔یعنی اتنی اہمیت دے دی گئی ہے،اب دیکھئے ابن الجوزی رحمہ اللہ کی کتاب ذم الھوی، کتاب الاذکیاء ، کتاب القصاص ہے، ان میں ہر قصّہ سند کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ادب و لغت کے بارے میں ،اشعار کے بارے میں بھی سند کا اہتمام کیا گیا ہے،تو یہ