کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 18
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اس(مسعدۃ بن صدقہ ) کے ترجمے میں موضوع قرار دیاہے۔ لیکن اس کامعنی یہ نہیں کہ سند کی حیثیت نہیں ہے بلکہ اس روایت کے بارے میں آگاہی مقصود ہےکہ یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے۔ سند دین میں سے ہے: محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’إن ہذا العلم دین، فانظروا عمن تأخذون دینکم ‘‘ ’’یہ دین کامعاملہ ہے اس لئے تم دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے لیتے ہو؟؟‘‘ یہی قول ابن عباس ، ابوہریرہ w ،زید بن اسلم ، حسن بصری، ابراہیم نخعی، الضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ علیہم سے مروی ہے۔  ضمناً ایک بات کردوں کہ یہ جو بات انہوں نےفرمائی ہےکہ اسلاف کا محتاط پہلو یہ تھا جیسا کہ مذکور ہوا ، لیکن وائے افسوس آج امت اپنا دین کن سے لے رہی ہے؟ نیز جن سے دین لیاجانا چاہئے، ان کے لئےشرائط ہیں؟ لیکن اب معاملہ کیا ہے؟؟ جو نماز تک نہ پڑھے، کبائر کا مرتکب ہو ،برہنہ اور پاکی، پلیدی کا بھی خیال نہ کرے، اس سے دین لے رہے ہیں۔ کجا ہمارے سلف کی فکر اور ایک ہم ہیں کہ کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ ہم نے کس سے دین لینا ہے۔