کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 20
ابن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: [ یا أبا إسحاق، إن بین الحجاج بن دینار وبین النبی صلی اللہ علیہ وسلم مفاوز تنقطع فیہا أعناق المطی] ’’ اے ابواسحاق! حجاج(جو تبع تابعی ہیں) اور رسول اللہ ﷺکے درمیان تو اتنا طویل زمانہ ہے جس کو طے کرنے کے لئے اونٹوں کی گردنیں تھک جائیں گی،(تو اس درمیان کے طویل زمانے کو کون پاٹے گا؟ )‘ اب دیکھیں ! ابن مبارک رحمہ اللہ نے اس روایت کا رد سند کے ذریعے سے کیا۔ ابو اسحق، شہاب اور حجاج بن دینار ثقہ تھے ،لیکن ان کی بات کو سند کے نہ ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا،یہی بات انہوں نے اپنے قول میں کہی کہ یہ سند نہ ہوتی تو جس کا جو دل چاہتا کہہ دیتا،تو یہ سند کا اہتمام ہے،اور اس امت کا اختصاص ہے۔ پھر سند کے حوالے سے صرف یہ اہتمام نہیں ہے کہ بس نا م آگیا ہے اور کافی ہے، مثلاً زہری، یحی بن سعیدوغیرہ کا نام آگیا ہے، صرف نام کی حد تک اہتمام نہیں، بلکہ ان رواۃ کے بارے میں تفصیلی تراجم موجود ہیں کہ کب پیدا ہوئے؟ کہاں کہاں علمی سفر کئے؟ کہاں پڑھا؟ کس حالت میں کس استاد سے علمی سماع کیا ؟جوانی میں حفظ و ضبط کیسا تھا؟ اور بڑھاپے میں متاثر ہوا یا نہیں؟ اورکب فوت ہوا ؟یعنی ان کی زندگی کا بائیو ڈیٹا (Bio Data)کہ اس کی زندگی کے ضروری حصص بھی محفوظ ہوگئے۔ یوں کہنا چاہئے کہ ان محدثین اور رواۃنے نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ کو ہی محفوظ نہیں کیا بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی اس محنت کے نتیجے میں ان کی زندگیوں کو بھی محفوظ کردیا۔