کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 22
(المائدۃ: 45 ) )اور اگر زبر پڑھی جائے تو معنی ہے کہ زبان سے اس پر نقد و تبصرہ اور زخم لگانا جیسا کہ ایک شاعر کا قول ہے: جراحات السنان لھا التئام ولا یلتام ما جرح اللسان زبان کے زخم نہیں مٹتے اور تلوار کے زخم مٹ جاتے ہیں۔ لفظ نقد کی لغوی وضاحت: ’’ اچھے دراہم کی تمییز اور اور اس سے کھوٹے دراہم کا نکالنا۔‘‘یہی لفظ انسانوں کی جرح اور تنقید پر بولا جاتا ہے کہ کون صحیح ہے؟ اور کون غلط ہے ؟کون قابل اعتبار ہے؟ اور کون قابل اعتبار نہیں ہے؟ اور یہی چیز روپے پیسے میں ہوتی ہے کہ کون سا کھرا ہے ؟اور کون سا کھوٹا ؟ کیا راوی پر جرح کرنا غیبت کے زمرے میں آتا ہے؟ بعض نیک حضرات نے یہاں تک کہا کہ یہ محدثین کا جرح کرنا غیبت ہے،یہ نہیں ہونی چاہئے۔ امام ابن ابی یعلی رحمہ اللہ نے طبقات حنابلہ میں ذکر کیا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے پاس ابو تراب نخشبی آئے اور امام صاحب کی مجلس میں بیٹھ گئے اور ان کی مجلس میں احادیث کا ذکر ہورہا تھا اور امام صاحب حدیث کے راویوں پر نقد و جرح بھی کررہے تھے ، کہ یہ ثقہ ہے اور یہ ضعیف ہے۔ابو تراب النخشبی کہنے لگے:’’ لا اتق اللہ ولا تغتب‘‘ یعنی : ’’ اللہ سے ڈرو اور غیبت نہ کرو‘‘امام احمد کے فرزند عبداللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : ’’ویحک ھذا نصیحۃ ولا غیبۃ ‘‘ یعنی : ’’یہ خیرخواہی ہے غیبت نہیں ہے ۔‘‘