کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 24
یعنی : ’’وہ شخص جو قابل اعتبار ہو ‘‘جس کے اعمال و اخلاق پسندیدہ ہوں اس کو لغت میں عدل کہتے ہیں۔ اصطلاحاً :مسلم،بالغ عاقل، سالم من اسباب الفسق بری عادات سے جو خلاف مروت ہیں آداب اسلامی کے خلاف ہیں ان سے اجتناب کرنے والا ہو۔ عدالت کی شرط راوی کی قبولِ روایت کے لئے ہے،یا بیانِ روایت کےلئے؟؟ یہاں یہ بھی سمجھیں کہ یہ جو شرط عائد کی ہے کہ عادل ہو یعنی مسلم ہو،بالغ ہو اور فسق سے بچا ہوا ہواور خوارم مروت سے بچا ہوا ہو، یہ شرط راوی کے روایت لینے میں ہے یا روایت بیان کرنے میں ہے،؟؟ صحیح بات یہ ہے کہ لینے کے لئے یہ شرائط نہیں ہے بلکہ حدیث بیان کرنے کے لئے یہ شرائط ہیں کہ جو حدیث بیان کررہا ہو وہ بالغ،عاقل، سالم من الفسق اور اخلاق اس کے درست ہوں،اب دیکھئے ! نابالغ کی روایت قابل قبول ہے۔ غیرمسلم بعد میں مسلمان ہوگیا تو اب وہ اس وقت کی حکایت بیان کرتا ہے تو اگر مسلمان نہ ہو تو اس کی کوئی روایت قابل نہیں ہے اور اسلام لانے کے بعد وہ عمل حکایت کردیا تو وہ حدیث بن گیا ، لہذا یہ شرط روایت بیان کرنے کے لئے ہے۔ فسق سے مراد : وہ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو اور صغیرہ پراصرار نہ ہو اس لئے کہ صغیرہ کا اصرار اسے کبیرہ بنادیتا ہے۔ بہت سی سنتوں کا استخفاف اسی لئے ہورہا ہے کہ وہ سنت ہی تو ہے تو صرف سنت کہہ کر لوگ بے وقعتی اختیار کئے ہوئے ہیں حالانکہ یہ مسلسل دوری اسے کبیرہ گناہ بنا دیتی ہے۔ تو عدالت کے لئے یہ چیز شرط ہے۔