کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 25
فسق کی اقسام: فسق کی دو قسمیں ہیں : ۱۔اعتقادی جس کا تعلق بدعات سے ہے۔ (اس کی مزید قسمیں آگے آرہی ہیں) ۲۔ عملی: محدثین نے تقسیمِ فسق میں بڑی باریک بینی اور انصاف پر مبنی فیصلہ فرمایا ہےکہ بدعتی بھی فاسق اور معصیت کا مرتکب بھی فاسق، مگر محدثین دونوں کی روایت میں فرق کرتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ جس نے بدعت اختیار کی ہے اس نے نیکی سمجھ کر اس کو اختیار کیا ہے، لیکن اس میں اس کو غلط فہمی ہوئی اور خطاء لگی ہے۔ لیکن جو عملی فسق ہے وہ نافرمانی کا مرتکب ہے ،البتہ ایسی بدعت جو حد ِکفر تک پہنچ جاتی ہے اس کی روایت بالکل قابل قبول نہیں ہے۔ بدعت کی اقسام: بدعت کی دو قسمیں ہیں۔۱۔ بدعت مکفرہ ۲۔ بدعت مفسقہ بدعت مکفرہ : ایسی بدعت کہ جس کے نتیجے میں کفر لازم آتا ہے تو ایسے راوی کی روایت قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ عدالت کی شرط مسلم والی ختم ہوجاتی ہے۔ بدعت مفسقہ : ایسی بدعت جو حد کفر تک نہیں پہنچتی اس کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ داعی الی البدعۃ نہیں اور وہ روایت اس کی بدعت کی تائید میں نہیں تو پھر اس کی روایت کو لے لیا جائے۔ بعض نے کہا ہے بدعتی اگر بدعت مکفرہ کا مرتکب نہیں وہ داعی الی البدعہ ہی کیوں نہ ہو اس کی روایت قبول کی جائے گی۔ بدعتی اور فاسقِ عملی کے بارے میں یہ تفریق ہمیں ملحوظ رکھنی چاہئے۔