کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 33
رم المنکی میں دو تین صفحات پر مشتمل رد کیا ۔اور ان کے حوالے سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان کے مقدمے میں اور پہلی جلد کے آخر میں ایوب کے ترجمے میں اس مؤقف پر رد کیا ہے۔  بہرحال یہ اصول کسی کی توثیق ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ (۲)توثیق راوی کے حوالے سے امام حاکم رحمہ اللہ کا تساہل: امام حاکم رحمہ اللہ کے ایک کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مؤقف بھی یہی ہے۔جیسا کہ ایک حدیث کے بارے میں فرمایا: ’’صحیح الاسناد فان ابا صالح الخوزی و ابا الملیح الفارسی لم یذکرا بالجرح انما ھما فی عدد المجھولین لقلۃ الحدیث‘‘  یعنی: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، ابوصالح الخوزی اور ابوالملیح الفارسی کے بارے میں کوئی جرح مذکور نہیں ہے،یہ دونوں قلتِ حدیث کی وجہ سے مجہولین میں سے شمار ہوں گے ۔ مذکورہ قول میں امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح الاسناد کہنے کے بعد ان رواۃ کے بارے میں یہ کہا کہ