کتاب: ضوابط الجرح والتعدیل - صفحہ 35
لئے حیلہ سازی اختیار کرتا ہے ، ہمیں اعتدال والی بات کو لینا چاہئے۔ ثبوتِ عدالت کے حوالے سے جمہور کا مؤقف : امام بزار رحمہ اللہ کا مؤقف یہ ہے کہ اسی طرح جس راوی سے ایک جماعت روایت کرتی ہو تو اس راوی کی عدالت ثابت ہوجاتی ہے۔ بلکہ ابن قطان رحمہ اللہ کا بھی یہی مؤقف ہے، حافظ ذہبی،حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مؤقف ہے۔ اب دیکھئے امام ابن القطان رحمہ اللہ ایک جگہ فرماتے ہیں:’’ ۔۔من قطع سدرۃ صوب اللہ رأسہ فی النار۔ قال: فیہ سعید بن محمد بن جبیر لا یعرف حالہ روی عنہ جماعۃ ۔۔۔۔ فالحدیث لاجلہ حسن ‘‘ جس نے بیری کا درخت کاٹا اللہ تعالی اس کے سر کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا۔فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں سعید بن محمد بن جبیر ہے، اس کا حال معلوم نہیں ہے،اس سے ایک جماعت نے روایت کی ہے۔ لہذا اس کی حدیث حسن ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابن القطان رحمہ اللہ کا مؤقف وہی ہے جو امام بزار رحمہ اللہ کا ہے۔ لیکن وہ اس پر قائم نہ رہے۔ دیکھئے وہ فرماتے ہیں: ’’ما صلیت وراء أحد أشبہ صلاة برسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -من عمر بن عبد العزیز، فکان یحزر رکوعہ قدر عشر تسبیحات، وسجودہ کذلک وسکت عنہ، ووہب ہذا مجہول الحال، وأظن أن أبا محمد قنع فیہ براویة جماعة عنہ، فإنہ قد روی عنہ إبراہیم بن نافع وإبراہیم بن عمر بن کیسان، وہو شیء لا مقنع فیہ، فإن عدالتہ لا تثبت بذلک‘‘